بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || افریقہ: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے آج (جمعرات) اپنے ہیڈکوارٹر "جدہ" میں مستقل مندوبین کی سطح پر اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا تاکہ وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ اجلاس صہیونی ریاست کے نام نہاد "صومالی لینڈ" کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کرنے کے اقدام کے بعد 30 سے زائد رکن ممالک کی موجودگی میں منعقد ہؤا۔
اس اجلاس میں فلسطین کے مستقل مندوب برائے او آئی سی، سفیر ہادی شبلی اور نائب سفیر نسیب الزعانین فلسطین کی نمائندگی کر رہے تھے۔ شرکاء نے اختتامی بیان میں صہیونی ریاست کے اقدام کی سخت مذمت کی اور اسے مسترد کر دیا، نیز جمہوریہ صومالیہ کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اراکین کی طرف سے اس ملک کی سلامتی، استحکام، اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی پابندی پر زور دیا۔
بیان کے فلسطین سے متعلق خاص حصے میں، اس اقدام کے فلسطینی قوم کو جبری بے دخلی کی کسی بھی کوشش سے ممکنہ تعلق کو یکسر مسترد کر دیا گیا اور کسی بھی شکل میں فلسطینیوں کی ـ خواہ فلسطین کے اندر یا باہر سے، بشمول غزہ پٹی سے ـ جبری بے دخلی یا مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی اور آبادیاتی ڈھانچے میں تبدیلی کا باعث بننے والے کسی بھی منصوبے، پالیسی یا درخواست کی واضح مخالفت کا اعلان کیا گیا۔
بیان نے تمام ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کے جبری بے دخلی کے منصوبوں کے ساتھ کسی بھی براہ راست یا بالواسطہ تعاون سے گریز کریں اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی بھی ممکنہ تعاون بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتا ہے جس کی وجہ سے خلاف ورزی کرنے والے ملک پر اس کی قانونی ذمہ داری عائد ہوگی۔
اجلاس میں فلسطینی قوم اور فلسطینی قیدیوں کے خلاف کنیسٹ کے نسل پرستانہ فیصلوں، نیز مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول قدس کے جغرافیائی اور آبادیاتی ڈھانچے کی تبدیلی کے مقصد سے غیر قانونی الحاق اور آبادکاروں کے لئے نئی بستیوں کی تعمیر کے منصوبوں کی مذمت کی گئی اور بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور متعلقہ بین الاقوامی عدالتی فیصلوں کی بنیاد پر "اسرائیل" کے غیر قانونی استعماری قبضے کے خاتمے، بشمول بستیوں کے نظام کے خاتے، کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ